ابنا: ترکی کے وزير اعظم رجب طیب اردوگان نے ٹیلیفون پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو شام کے صدر بشار اسد کی حمایت ترک کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ الٹا نکلا اور روسی صدر نے رجب طیب اردوگان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ شام کے خلاف ترکوں کے اقدام کے سنگین اور تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ ترک مجلہ آبدنلک نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ ٹیلیفونک گفتگو میں روسی صدر نے ترک وزير اعظم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی کے ایک فوجی نے بھی شام کی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کے خلاف روس کا رد عمل بہت شدید ہوگا۔ اردوگان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں دھمکی دے رہے ہیں؟ تو پیوٹن نے کہا جیسا آپ سمجھیں! شامی اور فلسطینی ذرائع کے مطابق یہ کہہ کر روسی صدرنے ٹیلیفون بند کردیا۔اگر چہ اس ٹیلیفونک گفتگو کی کسی مستقل ذرائع سے تصدیق یا تردید نہیں ہوئی لیکن روس اور ترکی کے تعلقات 10 اکتوبر سے کشیدہ چلے آرہے ہیں جب ترکی نے ماسکو سے دمشق جانے والے شامی جہاز کو انقرہ میں جبری پر اتار کر تلاشی لی اور کہا کہ اس میں فوجی ساز و سامان تھا لیکن روس اور شام نے ترکی کے اس دعوے کو جھوٹ اور بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فوجی ساز و سامان ہے تو ترکی اسے میڈيا کے سامنے پیش کرے لیکن ترکی نے اپنے دعوے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا....../169
23 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 359271
ترکی کے بعض ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ شام کے خلاف ممکنہ کارروائی پر روس کے صدر پیوٹن نے ترکی کے وزير اعظم رجب طیب اردوگان کی سرزنش اور اسےخبـردار کیا ہے۔